Welcome To the My Website یقینا وادی نیلم کی رونق اور یہاں کے مکینوں کا مستقبل مکمل طور پر جنگلات پر ہی منحصر ہے - Teach Future Academy

Sidebar Ads

test banner test banner

Post Top Ad

یقینا وادی نیلم کی رونق اور یہاں کے مکینوں کا مستقبل مکمل طور پر جنگلات پر ہی منحصر ہے

Share This
 



یقینا وادی نیلم کی رونق اور یہاں کے مکینوں کا مستقبل مکمل طور پر جنگلات پر ہی منحصر ہے


تحریر بشکریہ---- سید فواد حبیب صاحب


یہ بات تو مسلّم ہے یہ اس وقت دنیا کی خوبصورت ترین وادیوں میں وادی نیلم کا شمار ہوتا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے نہ صرف پاکستانی بالکہ غیر ملکی سیاحوں نے بھی وادی نیلم کا رخ کیا اور سیاحوں کے جوک در جوک وادی میں داخل ہونے کے ریکارڈ قائم ہوئے
حالانکہ ھم یہاں کے باسی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس خوب صورت ترین وادی کو دنیا کی تمام جدید ترین سہولیات سے ایسے دور رکھا گیا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہیں
مجھے تو وجہ میں بھی مماثلت لگتی ہے گدھے کے سر پہ سینگ نہ ہونے کی جو وجہ بتائی جاتی ہے وہ اس کا شریر پن ہے پرانے کہتے ہیں اگر گدھے کے سر پہ سینگ ہوتے تو اس کے پیچھے کی طرح آگے سے گزرنا بھی محال ہو جاتا
اسی طرح مجھے لگتا ہے ہمارے اب تک کے تمام عوامی نمائندوں نے وادی نیلم کو اس وجہ سے پسماندہ رکھا کہ اگر ان لوگوں میں شعور پیدا ہوا تو یہ پھر صرف تالیاں بجانے کے کام نہیں آئیں گے بالکہ یہ اپنے حقوق کی خاطر آواز بلند کریں گے
اور یہ اضافی بوجھ ھم سے برداشت نہیں ہونا
بہرحال وجہ جو بھی ہو وادی نیلم اس وقت تمام قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود کم سے کم خطہ کشمیر کا پسماندہ ترین علاقہ ہے
لیکن اس کے باوجود اس کی خوبصورتی دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے طرف متوجہ کرنے میں مقناطیسی کشش کی طرح کام کرتی ہے
وادی نیلم کا کوئی باشندہ جب پنجاب یا کسی دور دراز علاقہ میں اپنا تعارف کراتا ہے تو لوگ اسے ایسے تکنے لگتے ہیں جیسے وہ اصحاب کہف والوں میں سے ہو
میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا میں جب ساہیوال میں کسی کام سے بینک وغیرہ گیا میرے شناختی کارڈ پر لکھا *وادی نیلم* مجھے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونے سے بچانے میں میرے لئے انتہائی مفید ثابت ہوا
لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہمارے علاقے کی اصل خوبصورتی کن چیزوں میں ہے اور یہ خوبصورتی کیسے برقرار رہ سکتی ہے
اس میں کوئی شک نہیں وادی نیلم کی کی خوبصورتی دلکشی اور خوشگوار فضاء میں ہمارے خوبصورت نایاب اور گھنے جنگلات کا ننانوے فیصد کردار ہے
اگر یوں کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ وادی نیلم کی اصل خوبصورتی یہاں کے جنگلات پر ہی منحصر ہے
ہمارے جنگلات نہ صرف دنیا کے بہترین جنگلات میں سے ہیں بالکہ ہمارے جنگلات میں ایسی نایاب چیزیں شامل ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی
جنگلات نے نہ صرف وادی نیلم کی خوبصورتی کو برقرار رکھا ہے بالکہ یہاں کی فضا کو ایسی تازگی بخشی ہے کہ سو سالہ بوڑھا بھی یہاں کی خوشگوار فضا میں اپنے آپ کو جوان محسوس کرتا ہے
وادی نیلم میں جون جولائی جیسے سخت گرمی کے مہینوں میں سردری محسوس ہونا قدرت کا ایک خاص کرشمہ ہے اور اس کرشمہ میں اھم کردار یہاں کے جنگلات کا ہے جو قدرتی ائیر کنڈیشن سے ساری وادی میں خوشگوار ٹھنڈی ہواؤں کو بکھیرتے ہیں
وادی نیلم پہاڑوں اور جنگلات کے مجموعے پر مشتمل ایک خوبصورت سلسلہ ہے یہاں کے پہاڑ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن اگر ان پہاڑوں کو جنگلات نے مزین کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوطی سے نہ تھاما ہوتا بجائے دلکشی کے خودکش بمباد نظر آتے
فی الجملہ وادی نیلم کا حسن یہاں کی فضا, ہوا اور یہاں کی تمام رونقیں جنگلات سے وابسطہ ہیں
بد قسمتی سے اب ہم اپنی وادی کے حسن اور اس کی دلکشی سے آہستہ آہستہ محرومی کے سفر پر گامزن ہو رہے ہیں ہمارے جنگلات اب دن بدن ختم ہو رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہاں جنگلات ختم ہونے پر نہ صرف علاقہ بے رونق ہوگا بالکہ انسانی زندگی بھی ناممکن ہو کے رہ جائے گی
گزشتہ دھائیوں سے جس طرح بے دریغ جنگلات کی کٹائی ہو رہی ہے اگر یہی رفتار رہی تو عنقریب ہم لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہونگے اور جو ہجرت نہ کر سکیں وہ کوئلہ مظفرآباد مانسہرہ سے خرید کر لے جانے پر مجبور ہونگے ہمارے پہاڑ جن کو جنگلات نے مظبوطی سے تھامے رکھا ہے وہ برفباری اور لینڈ سلائنڈنگ سے زمین بوس ہو جائیں گے اگر ہمارا روڈ بن بھی جاتا ہے جنگلات نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت ہمارا سفر خوف و ہراس میں رہے گا کسی بھی وقت ننگے پہاڑ سلائیڈ ہونا شروع ہو جائیں گے
ان تمام تر حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم سب کو اپنے لئے اپنے آبائی علاقہ کے لئے اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے فی الفور اور بروقت اقدامات کرنے ہونگے جو جنگلات کو بچانے میں مؤثر ثابت ہوں
ایک تو حکومت وقت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہاں کے محکمہ جنگلات جو کہ صرف ایک کاروباری اور رشوت خور محکمہ کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں نچلے طبقہ کے گارڈز بیچارے ایماندار ہونے کے باوجود مجبور اور بے بس ہیں کیونکہ افسر شاہی نظام نے ان سب کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے انہیں نہ صرف اپنا پیٹ پالنا پڑتا ہے بالکہ وہاں سیر و تفریح پر آنے والے آفیسرز کی عیاشیاں اور اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں
انہیں مجبور کیا جاتا ہے عوام الناس پر اضافی بوجھ ڈالیں اور بے دریغ جنگلات کی کٹائی کروائیں
ایک تو اس محکمہ کو درست سمت گامزن کرنا ہوگا یہاں بیٹھے رشوت خور چاپلوس اور سفارشی عناصر کا قلع قمع کرنا انتہائی ضروری ہے
اور اس کے بعد عوام الناس کے لئے متبادل کا بندوبست کرنا کیونکہ وادی میں ایسے سردی کی شدت اور دیگر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہاں کے مکینوں کا بغیر لکڑی کے قطعا گزارہ نہیں خاص طور پر اپر گریس میں برفباری کے سیزن میں بندہ آگ کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتا
ان تمام مجبوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک تو علاقہ میں حکومتی سطح پر لکڑی کے متبادل کا رواج ڈالا جائے اور جہاں تک ممکن ہو لکڑی کی کٹائی کو کم کر کے اس کے متبادل مفت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے
اس کے بغیر جنگلات کے قتل عام کو روکنا صرف مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
اس کی دیگر کئی صورتیں جو ممکنات میں سے ہیں
ایک تو مفت بجلی اور ہر علاقہ میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کم سے کم کھانے پکانے کے لئے لکڑی کا استعمال ختم ہو
مٹی کے تیل والے چولہے متعارف کرائے جائیں اور تیل کی مفت یا آدھے نرخوں میں فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ حکومتی سطح پر اس کے استعمال کو فروغ دیا جائے
وادی میں اس طرز کے مکانات تعمیر کرائے جائیں جن میں بجلی گیس سے بھی حرارت ممکن ہو
وادی میں پھلدار باغات کو فروغ دینے میں حکومت مؤثر حکمت عملی اپنائے عوام میں ایسا شعور پیدا کرے کہ لوگ اپنی فصل میں بھی باغات لگانا شروع کریں
اس طرح کی مخلتف مؤثر حمکت عملی اپنانا فی الفور بلا تاخیر انتہائی اھمیت کی حامل ہیں نیلم کے غیور باشعور نوجوانوں نے روڈ کے ساتھ جنگلات بچاؤ مہم کا جس خوش اصلوبی سے آغاز کیا ہے قابل تعریف ہے
یقینا جنگلات سے ہی وادی نیلم کی عوام کا روشن اور درخشاں مستقبل وابسطہ ہے






اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہو


سید فواد حبیب شاه

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages